ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا میں خواتین کی شراکت داری، ممتا بنرجی نکلیں سب سے آگے

لوک سبھا میں خواتین کی شراکت داری، ممتا بنرجی نکلیں سب سے آگے

Thu, 14 Mar 2019 23:17:09    S.O. News Service

کولکاتہ، 14 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مساوات بٹھانے شروع کر دئے ہیں۔نسلی بنیاد پر اتحاد سے لے کر ٹکٹ تقسیم میں بھی نسلی مساوات کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ان سب کے درمیان آدھی آبادی کے لوک سبھا میں نمائندگی کو لے کر بھی بحث شروع ہو گئی ہے،جہاں بی جے ڈی سربراہ نوین پٹنائک نے 33 فیصد لوک سبھا ٹکٹ خواتین کے لیے مخصوص رکھنے کا وعدہ کیا ہے، تو وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے عام انتخابات میں 41 فیصد خواتین کو ٹکٹ دے کر ان سے آگے نکل گئی ہیں۔دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق آئین نافذ ہونے کے ساتھ ہی دے دیا گیا تھا، جبکہ سب سے قدیم جمہوریت امریکہ میں انہیں یہ حق طویل جدوجہد کے بعد مل سکا۔ملک کے پالیسی سازوں نے خواتین کو ووٹ دینے کے حق تو دے دیے، لیکن ہمارے مردغالب معاشرے میں لوک سبھا میں ان کی شرکت نسبتا کم ہی رہی۔سال 1966 سے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کرنے والا بل اٹکا ہوا ہے،جبکہ زیادہ تر ریاستوں کی پنچایتوں میں انہیں 33 فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔لہذا عام انتخابات سے پہلے خواتین کی شراکت کو لے کر چھڑی بحث جمہوریت کے لئے خوشگوار اشارہ ہیں۔بدھ کو کانگریس صدر راہل گاندھی نے تمل ناڈو میں وعدہ کیا ہے کہ کانگریس کی حکومت آنے پر لوک سبھا کی 33 فیصد سیٹ خواتین کے لیے مخصوص کرنے کے ساتھ ہی سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں بھی خواتین کو ریزرویشن دیا جائے گا۔ایسے میں اگر گزشتہ چند لوک سبھا انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے خواتین کو دیے گئے ٹکٹ کااعدادوشمار مایوس کرنے والا ہے۔ایک انگریزی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق 1996 سے 2014 تک ہوئے لوک سبھا انتخابات میں کسی بھی سیاسی پارٹی نے خواتین کو مجموعی طور پر 10 فیصد سے زیادہ ٹکٹ نہیں دیا ہے،جبکہ کچھ جماعتوں نے کسی ایک انتخاب میں 10 فیصد کا ہندسہ پار کیا ہے جو طویل عرصے سے لوک سبھا میں 33 فیصد ریزرویشن کے مطالبہ سے کافی کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق کانگریس نے 1996 سے 2014 تک سب سے زیادہ خواتین کو ٹکٹ دیا ہے لیکن یہ اعداد و شمار بھی 9.3 فیصد سے لے کر 12.9 فیصد ہی ہے،جبکہ خاتون صدر رہنے کے باوجود بہوجن سماج پارٹی اس معاملے میں سب سے پیچھے رہی۔بی ایس پی کے اعداد و شمار 1996۔2014 کے درمیان 3.9 فیصد سے لے کر 5.4 فیصد رہا تو وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اعداد و شمار 5.7 فیصد سے 8.9 فیصد رہا۔پانچ قومی جماعتوں کی طرف 1996۔2014 تک ہوئے 6 لوک سبھا انتخابات میں دیے گئے کل 9174 لوک سبھا ٹکٹ میں سے خواتین کو کل 726 ٹکٹ ملے جو کہ 8 فیصد کے برابر ہے،جبکہ علاقائی پارٹیوں کی بات کریں تو گزشتہ 6 لوک سبھا انتخابات میں کل 252 خواتین کو ہی ٹکٹ مل پایا۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کانگریس نے اوسطا ہر 10 میں سے 1 ٹکٹ خاتون امیدوار کو دیا،جبکہ بی ایس پی نے اوسطا 5 فیصد خواتین امیدواروں کو جگہ دی۔وہیں بی جے پی اور سی پی آئی نے اوسطا 8 فیصد خواتین کو امیدوار بنایا، جبکہ سی پی ایم نے 9 فیصد خواتین کو لوک سبھا ٹکٹ دیا۔

بہرحال، گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے اعداد و شمار تمام قومی اور علاقائی پارٹیوں کی خواتین کے تئیں بے حسی ہی دکھاتے ہیں۔جہاں 16 ویں لوک سبھا میں آزادی کے بعد سے سب سے زیادہ خواتین رکن منتخب کر کے آئیں، پھر بھی خواتین کی نمائندگی کم رہی لیکن اس بار کے لوک سبھا انتخابات میں جس طرح سے خواتین کی قابلیت کو لے کر بحث ہو رہی ہے، ایسے میں آدھی آبادی کے لئے ایک امید کی کرن دیکھی جا سکتی ہے۔


Share: